10 اکتوبر 2026 - 18:31
پاکستان کا طالبان سے مطالبہ: افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں روکی جائیں

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے طالبان پر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے ان گروہوں کے ٹھکانوں کی تفصیلات افغان حکام کو دے دی ہیں۔ انہوں نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے طالبان کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے اسلام آباد پر داعش خراسان کی حمایت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو کابل اور افغانستان کے دوسرے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے، 17 مہر کو وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے سیاسی اور سکیورٹی کی سطح پر ان گروہوں کے ٹھکانوں کی درست تفصیلات افغان حکام کو فراہم کر دی ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں بعض مقامات پر پاکستان کے فوجی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حملے پوری درستگی کے ساتھ ان ٹھکانوں پر کیے گئے جہاں، اسلام آباد کے مطابق، مسلح گروہوں کے ارکان پاکستان کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی معاونت کے لیے سرگرم تھے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے نورستان اور بدخشان صوبوں میں اسلام آباد کی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کیا اور طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری قبول کرے۔

حیدر خان نے کہا کہ افغان حکومت کو ایسے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو افغان سرزمین سے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ شرائط پوری کی جائیں تو پاکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور مناسب تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، سرحد پار حملوں اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے الزامات پر اسلام آباد اور طالبان حکومت کے درمیان اختلافات بدستور جاری ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha